Skip to main content

Posts

آخری سیٹ

 ریل گاڑی رات کے اندھیرے کو چیرتی ہوئی آہستہ آہستہ سفر کر رہی تھی۔ کھڑکی کے باہر دور تک صرف دھند، بجلی کے کھمبے اور کبھی کبھار کسی چھوٹے اسٹیشن کی مدھم روشنی دکھائی دیتی تھی۔ مریم نے سر سیٹ سے ٹکا رکھا تھا۔ وہ مسلسل تین دن سے جاگ رہی تھی اور اب اُس کی آنکھوں میں تھکن صاف نظر آ رہی تھی۔ وہ لاہور سے کراچی جا رہی تھی۔ ہمیشہ کے لیے۔ کم از کم اُس نے خود سے یہی کہا تھا۔ مریم کو سفر پسند نہیں تھے۔ اُسے اسٹیشنوں کی بھیڑ، لوگوں کی آوازیں اور الوداع کہتے چہرے بے حد اداس کرتے تھے۔ مگر اس بار اُس کے پاس جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ اُس نے بیگ سے پانی کی بوتل نکالنے کی کوشش کی مگر بوتل سیٹ کے نیچے لڑھک گئی۔ سامنے بیٹھے لڑکے نے فوراً بوتل اٹھا کر اُس کی طرف بڑھا دی۔ شاید یہ بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مریم بے اختیار ہلکا سا مسکرا دی۔ شکریہ۔ لڑکے نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔ ویسے رات کے سفر میں چیزیں اکثر گم ہو جاتی ہیں۔ مریم نے پہلی بار غور سے اُسے دیکھا۔ سادہ کپڑے، تھکی ہوئی آنکھیں اور ہاتھ میں ایک پرانی ڈائری۔ کافی دیر خاموشی رہی۔ پھر لڑکے نے پوچھا۔ آپ بھی پہلی بار ات...
Recent posts

زرد روشنیوں والا موسم

شہر میں جاڑے کی آمد ہمیشہ خاموشی ساتھ لاتی تھی۔ شام ڈھلتے ہی گلیوں پر ہلکی کہر اتر آتی اور دور دور تک جلتے بلب  دھندلے ستاروں جیسے لگنے لگتے۔ انہی دنوں عنایہ روز کی طرح اپنی کاپیوں کو سینے سے لگائے گھر لوٹ رہی تھی۔ عنایہ اُن لوگوں میں سے تھی جو محفل میں بھی خاموش رہتے ہیں۔ وہ ضرورت سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی۔ اُس کی دنیا چند معمولات تک محدود تھی۔ صبح یونیورسٹی، شام بچوں کو پڑھانا اور رات گئے تک ڈائری میں بے ترتیب لفظ لکھتے رہنا۔ وہ اپنی پھوپھی کے ساتھ ایک چھوٹے سے مکان میں رہتی تھی۔ گھر کے آنگن میں بیری کا ایک پرانا درخت تھا۔ خزاں کے دنوں میں اُس کے خشک پتے فرش پر بکھر جاتے اور ہوا چلتی تو لگتا جیسے کوئی آہستہ آہستہ چل رہا ہو۔ عنایہ کو وہ آواز پسند تھی۔ ایک دوپہر اُس نے دیکھا کہ سامنے والے بند مکان کا زنگ آلود دروازہ کئی برس بعد کھلا ہے۔ اندر سے سامان اٹھانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ محلے کے لوگ حیران تھے کیونکہ وہ گھر بہت عرصے سے خالی پڑا تھا۔ اگلی صبح عنایہ حسبِ معمول جلدی نکل رہی تھی کہ سامنے ایک اجنبی لڑکا پرانے گملے صاف کر رہا تھا۔ اُس کے کپڑوں پر مٹی لگی ہوئی تھی اور بال بک...

آدھی رات کا آخری مسافر | ایک پراسرار سفر کی کہانی

شہر میں رات بہت گہری ہو چکی تھی۔ سڑکیں تقریباً خالی تھیں اور ٹھنڈی ہوا ہر طرف خاموشی بکھیر رہی تھی۔ دور کہیں ہلکی بارش ہو رہی تھی جبکہ بس اسٹیشن کی مدھم روشنیاں سنسان ماحول کو مزید اداس بنا رہی تھیں۔ زین روز کی طرح اُس رات بھی دیر سے کام ختم کرکے گھر جا رہا تھا۔ اُس کی زندگی کافی سادہ مگر تھکا دینے والی تھی۔ صبح دفتر، رات تھکن، اور پھر اگلا دن۔ اُس نے کبھی اپنی زندگی میں کسی خاص انسان کے آنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ وہ بس اسٹیشن پر کھڑا اپنی بس کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک اُس کی نظر سامنے بیٹھی ایک لڑکی پر پڑی۔ وہ سفید سویٹر پہنے خاموشی سے آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ اُس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی پرانی ڈائری تھی جسے وہ بار بار کھولتی اور بند کر دیتی۔ زین نے صرف ایک لمحہ اُسے دیکھا، مگر نہ جانے کیوں اُس کی نظریں وہیں رک گئیں۔ چند منٹ بعد تیز ہوا چلی اور لڑکی کے ہاتھ سے ڈائری نیچے گر گئی۔ کچھ صفحات ہوا میں بکھر گئے۔ زین فوراً آگے بڑھا اور صفحات اٹھانے لگا۔ اُس دوران ایک صفحے پر لکھی لائن اُس کی نظر سے گزری۔ کچھ لوگ زندگی میں دیر سے آتے ہیں، مگر پورا نصیب بدل دیتے ہیں۔ زین چند لمحے خاموش رہ...

وہ لڑکی جس نے خاموش انسان کو محبت سکھا دی

 شہر میں سرد موسم اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود تھا۔ صبح کے وقت ہلکی دھند سڑکوں پر پھیلی ہوئی تھی اور ہر طرف خاموشی کا عجیب سا احساس تھا۔ لوگ جلدی جلدی اپنے کاموں کی طرف جا رہے تھے، لیکن فہد ہمیشہ کی طرح دنیا سے بے خبر اپنی ہی سوچوں میں گم تھا۔ فہد ایک عام سا لڑکا تھا۔ اُس کی زندگی صرف کام اور ذمہ داریوں کے گرد گھومتی تھی۔ نہ دوستوں کی محفلیں اُسے اچھی لگتی تھیں اور نہ فضول باتیں۔ وہ زیادہ تر خاموش رہتا تھا اور اپنے جذبات دل میں ہی رکھتا تھا۔ ہر صبح آفس جانے سے پہلے وہ ایک چھوٹے سے کیفے میں کافی پینے ضرور جاتا تھا۔ اُس دن بھی وہ حسبِ معمول وہاں پہنچا، لیکن اُس کی زندگی بدلنے والی تھی۔ کیفے کے ایک کونے میں بیٹھی ایک لڑکی اپنی ڈائری میں کچھ لکھ رہی تھی۔ اُس کے چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔ کبھی وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی اور کبھی مسکرا کر دوبارہ لکھنے لگتی۔ فہد نے پہلی بار کسی اجنبی کو اتنی دیر تک دیکھا تھا۔ وہ خود بھی نہیں سمجھ سکا کہ آخر اُس میں ایسی کیا بات تھی۔ کافی لینے کے بعد وہ قریب والی میز پر بیٹھ گیا۔ کچھ لمحوں بعد ویٹر غلطی سے اُس لڑکی کی میز سے ٹکرا گیا اور اُس کی قلم نیچے گ...

فائیور پر پیسے کمانے کا آسان طریقہ

تعارف آج کل کے دور میں، جب مہنگائی اور روزگار کے مواقع محدود ہیں، فائیور (Fiverr) جیسی فری لانسنگ پلیٹ فارمز نے دنیا بھر کے افراد کے لیے آن لائن آمدنی کے دروازے کھولے ہیں۔ چاہے آپ طالب علم ہوں، گھر بیٹھے والدین، یا کوئی بھی جو اضافی آمدنی کا خواہشمند ہو، فائیور پر کام کر کے آپ اپنی مہارتوں سے پیسہ کما سکتے ہیں۔ فائیور کیا ہے؟ فائیور ایک آن لائن فری لانسنگ مارکیٹ پلیس ہے جہاں دنیا بھر کے فری لانسرز اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ یہاں "گِگ" (Gig) کے ذریعے مختلف خدمات جیسے گرافک ڈیزائن، مواد کی تحریر، ترجمہ، ویڈیو ایڈیٹنگ، اور بہت کچھ پیش کیا جاتا ہے۔ ہر گِگ کی قیمت کم از کم پانچ ڈالر سے شروع ہوتی ہے، جو "فائیور" کے نام کی مناسبت سے ہے۔ فائیور پر کام شروع کرنے کے لیے ضروری اقدامات 1. اکاؤنٹ بنائیں سب سے پہلے فائیور کی ویب سائٹ ([www.fiverr.com](http://www.fiverr.com)) پر جائیں اور ایک نیا اکاؤنٹ بنائیں۔ آپ گوگل، فیس بک، یا ای میل کے ذریعے سائن اپ کر سکتے ہیں۔ 2. پروفائل مکمل کریں پروفائل آپ کا آن لائن سی وی ہے۔ اس میں اپنی مہارتوں، تجربے، اور خدمات کی...

How to Work Markaz App and Earn Money online from Markaz App

  What Is MArkaz APP Markaz App is an innovative online platform that serves as a marketplace for freelancers and businesses seeking remote services. It provides a digital ecosystem where individuals can connect, collaborate, and exchange services and expertise. Markaz App caters to a wide range of industries and job categories, allowing users to find opportunities that align with their skills and interests. The platform offers a user-friendly interface that facilitates seamless communication and project management between freelancers and clients. It enables freelancers to showcase their portfolios, skills, and experience, while businesses can post projects and browse through a pool of talented professionals. Markaz App has gained popularity due to the increasing demand for remote work and the flexibility it offers. It has become a go-to platform for freelancers looking to monetize their skills and businesses seeking cost-effective solutions. The app provides a level playing field,...