شہر میں سرد موسم اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود تھا۔ صبح کے وقت ہلکی دھند سڑکوں پر پھیلی ہوئی تھی اور ہر طرف خاموشی کا عجیب سا احساس تھا۔ لوگ جلدی جلدی اپنے کاموں کی طرف جا رہے تھے، لیکن فہد ہمیشہ کی طرح دنیا سے بے خبر اپنی ہی سوچوں میں گم تھا۔
فہد ایک عام سا لڑکا تھا۔ اُس کی زندگی صرف کام اور ذمہ داریوں کے گرد گھومتی تھی۔ نہ دوستوں کی محفلیں اُسے اچھی لگتی تھیں اور نہ فضول باتیں۔ وہ زیادہ تر خاموش رہتا تھا اور اپنے جذبات دل میں ہی رکھتا تھا۔
ہر صبح آفس جانے سے پہلے وہ ایک چھوٹے سے کیفے میں کافی پینے ضرور جاتا تھا۔ اُس دن بھی وہ حسبِ معمول وہاں پہنچا، لیکن اُس کی زندگی بدلنے والی تھی۔
کیفے کے ایک کونے میں بیٹھی ایک لڑکی اپنی ڈائری میں کچھ لکھ رہی تھی۔ اُس کے چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔ کبھی وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی اور کبھی مسکرا کر دوبارہ لکھنے لگتی۔
فہد نے پہلی بار کسی اجنبی کو اتنی دیر تک دیکھا تھا۔
وہ خود بھی نہیں سمجھ سکا کہ آخر اُس میں ایسی کیا بات تھی۔
کافی لینے کے بعد وہ قریب والی میز پر بیٹھ گیا۔ کچھ لمحوں بعد ویٹر غلطی سے اُس لڑکی کی میز سے ٹکرا گیا اور اُس کی قلم نیچے گر گئی۔
فہد فوراً اُٹھا اور قلم اٹھا کر اُس کی طرف بڑھا دیا۔
لڑکی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ شکریہ ادا کیا۔
فہد واپس اپنی جگہ بیٹھ گیا، مگر اُس کا دھیان اب کافی میں نہیں بلکہ اُس لڑکی میں تھا۔
کچھ دیر بعد اچانک لڑکی نے خود بات شروع کی۔
آپ روز یہاں آتے ہیں نا؟
فہد تھوڑا حیران ہوا۔
ہاں، لیکن آپ کو کیسے پتہ؟
کیونکہ میں بھی روز آتی ہوں۔
فہد پہلی بار ہلکا سا مسکرایا۔
اُس دن اُن کے درمیان مختصر سی گفتگو ہوئی۔ فہد کو معلوم ہوا کہ اُس لڑکی کا نام عائزہ تھا۔ وہ کہانیاں لکھنے کا شوق رکھتی تھی اور اکثر لوگوں کو observe کیا کرتی تھی۔
اگلے دن فہد دوبارہ کیفے گیا تو عائزہ پہلے سے وہاں موجود تھی۔
آج اتنی دیر کیوں لگا دی؟
عائزہ نے شرارت سے پوچھا۔
فہد حیران رہ گیا۔
کسی نے پہلی بار اُس کی کمی محسوس کی تھی۔
دونوں آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب آنے لگے۔ کبھی چائے پر لمبی باتیں ہوتیں، کبھی بارش دیکھتے ہوئے خاموش بیٹھے رہتے۔
فہد کو احساس ہونے لگا کہ عائزہ باقی سب لوگوں سے مختلف ہے۔ اُس کے ساتھ رہ کر عجیب سا سکون ملتا تھا۔
ایک شام دونوں کیفے سے باہر نکلے تو ہلکی بارش شروع ہو گئی۔
لوگ بارش سے بچنے کے لیے بھاگ رہے تھے، مگر عائزہ خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی۔
تمہیں بارش پسند ہے؟
فہد نے پوچھا۔
بہت زیادہ۔ کیونکہ بارش شور نہیں کرتی، بس خاموشی سے دل کو سکون دے جاتی ہے۔
فہد اُس کی بات سن کر خاموش ہو گیا۔
شاید پہلی بار اُسے کسی کی باتیں اتنی اچھی لگ رہی تھیں۔
وقت گزرتا گیا اور دونوں کی دوستی محبت میں بدلنے لگی۔
فہد اب پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔ وہ اب مسکرانے لگا تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونے لگا تھا۔
عائزہ اکثر اُس سے کہتی:
تم پہلے بہت خاموش تھے۔
اور فہد ہنس کر جواب دیتا:
شاید تم نے میری خاموشی چرا لی ہے۔
سب کچھ بہت خوبصورت چل رہا تھا، لیکن قسمت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔
ایک دن عائزہ کیفے نہیں آئی۔
فہد نے انتظار کیا، مگر وہ نہ آئی۔
پھر اگلے دن بھی نہیں۔
فہد بے چین ہونے لگا۔
تقریباً ایک ہفتے بعد عائزہ دوبارہ آئی، مگر آج اُس کے چہرے پر پہلے جیسی خوشی نہیں تھی۔
کیا ہوا ہے؟
فہد نے فوراً پوچھا۔
عائزہ چند لمحے خاموش رہی، پھر آہستہ سے بولی:
ہم لوگ دوسرے شہر جا رہے ہیں۔
یہ سن کر فہد کے دل میں عجیب سی اداسی پھیل گئی۔
کب تک؟
پتہ نہیں۔
فہد اُس دن زیادہ کچھ نہ بول سکا۔
اُسے پہلی بار محسوس ہوا کہ کچھ لوگ انسان کی عادت بن جاتے ہیں۔
چند دن بعد عائزہ چلی گئی۔
فہد روز اُس کیفے میں جاتا، مگر اب وہاں پہلے جیسا سکون نہیں تھا۔
وہ اکثر اُس خالی میز کو دیکھتا رہتا جہاں عائزہ بیٹھا کرتی تھی۔
وقت گزرتا گیا۔
مہینوں بعد ایک سرد شام فہد حسبِ معمول کیفے میں بیٹھا تھا کہ کسی نے اُس کے سامنے آ کر کہا:
کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟
فہد نے چونک کر سر اٹھایا۔
سامنے عائزہ کھڑی تھی۔
بالکل ویسی ہی مسکراہٹ، ویسی ہی چمکتی آنکھیں۔
تم واپس آ گئی؟
فہد نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
عائزہ مسکرائی۔
کچھ لوگ بھلائے نہیں جاتے۔
فہد بے اختیار ہنس پڑا۔
اُسے اُس لمحے احساس ہوا کہ محبت صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ کسی کے دل میں ہمیشہ زندہ رہنے کا نام ہے۔
بارش اب بھی ہو رہی تھی، مگر آج موسم پہلے سے زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا۔
