شہر میں رات بہت گہری ہو چکی تھی۔ سڑکیں تقریباً خالی تھیں اور ٹھنڈی ہوا ہر طرف خاموشی بکھیر رہی تھی۔ دور کہیں ہلکی بارش ہو رہی تھی جبکہ بس اسٹیشن کی مدھم روشنیاں سنسان ماحول کو مزید اداس بنا رہی تھیں۔
زین روز کی طرح اُس رات بھی دیر سے کام ختم کرکے گھر جا رہا تھا۔ اُس کی زندگی کافی سادہ مگر تھکا دینے والی تھی۔ صبح دفتر، رات تھکن، اور پھر اگلا دن۔ اُس نے کبھی اپنی زندگی میں کسی خاص انسان کے آنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔
وہ بس اسٹیشن پر کھڑا اپنی بس کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک اُس کی نظر سامنے بیٹھی ایک لڑکی پر پڑی۔
وہ سفید سویٹر پہنے خاموشی سے آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ اُس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی پرانی ڈائری تھی جسے وہ بار بار کھولتی اور بند کر دیتی۔
زین نے صرف ایک لمحہ اُسے دیکھا، مگر نہ جانے کیوں اُس کی نظریں وہیں رک گئیں۔
چند منٹ بعد تیز ہوا چلی اور لڑکی کے ہاتھ سے ڈائری نیچے گر گئی۔ کچھ صفحات ہوا میں بکھر گئے۔
زین فوراً آگے بڑھا اور صفحات اٹھانے لگا۔
اُس دوران ایک صفحے پر لکھی لائن اُس کی نظر سے گزری۔
کچھ لوگ زندگی میں دیر سے آتے ہیں، مگر پورا نصیب بدل دیتے ہیں۔
زین چند لمحے خاموش رہا۔
لڑکی نے فوراً اُس کے ہاتھ سے صفحہ لیا اور ہلکا سا مسکرا دی۔
شکریہ۔
اُس کی آواز بہت نرم تھی۔
زین نے پہلی بار محسوس کیا کہ کچھ آوازیں سیدھا دل پر اثر کرتی ہیں۔
آپ لکھتی ہیں؟
زین نے پوچھا۔
کبھی کبھی۔ جب دل زیادہ خاموش ہو جائے۔
لڑکی نے جواب دیا۔
اُس رات دونوں ایک ہی بس میں سوار ہوئے۔
اتفاق سے دونوں کی منزل بھی ایک ہی علاقے میں تھی۔
راستے بھر چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہیں۔ زین کو معلوم ہوا کہ اُس لڑکی کا نام ایما تھا۔ اُسے راتیں پسند تھیں، خاموش لوگ پسند تھے، اور سب سے زیادہ اُسے وہ لوگ اچھے لگتے تھے جو بنا دکھاوے کے بات کریں۔
زین حیران تھا کیونکہ وہ خود بھی بالکل ایسا ہی تھا۔
بس اپنی منزل پر پہنچی تو ایما اُترنے لگی۔
پھر ملیں گے؟
زین نے بے اختیار پوچھ لیا۔
ایما نے چند لمحے اُسے دیکھا اور مسکرا کر بولی:
اگر قسمت نے چاہا تو ضرور۔
وہ چلی گئی، مگر زین کافی دیر تک اُسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔
اگلے دن عجیب بات ہوئی۔
زین پھر اُسی وقت بس اسٹیشن پہنچا… اور ایما پہلے سے وہاں موجود تھی۔
لگتا ہے قسمت نے جلدی فیصلہ کر لیا۔
ایما ہنس کر بولی۔
اُس دن کے بعد دونوں روز ملنے لگے۔
کبھی بس اسٹیشن پر، کبھی چائے والے ہوٹل پر، اور کبھی خاموش سڑکوں پر چلتے ہوئے۔
ایک رات ایما نے زین سے پوچھا:
تمہیں کبھی کسی سے محبت ہوئی ہے؟
زین ہلکا سا مسکرایا۔
شاید… اب ہو رہی ہے۔
ایما خاموش ہو گئی۔
ہوا آہستہ آہستہ چل رہی تھی اور دونوں سڑک کنارے خاموش کھڑے تھے۔
کچھ لمحوں بعد ایما نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
محبت عجیب چیز ہوتی ہے… انسان کو بدل دیتی ہے۔
زین نے پہلی بار محسوس کیا کہ واقعی اُس کی زندگی بدل رہی تھی۔
وہ اب راتوں کو مسکرانے لگا تھا۔
اُسے اب جلدی گھر جانے کی بجائے ایما کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگنے لگا تھا۔
پھر ایک رات سب کچھ بدل گیا۔
زین ہمیشہ کی طرح بس اسٹیشن پہنچا، مگر ایما وہاں نہیں تھی۔
اُس نے کافی دیر انتظار کیا۔
پھر اگلی رات… پھر اُس کے بعد والی رات۔
لیکن ایما کہیں نظر نہ آئی۔
زین بے چین رہنے لگا۔
ایک ہفتے بعد اُسے بس اسٹیشن کے بینچ پر وہی پرانی ڈائری ملی۔
وہ فوراً اُسے کھولنے لگا۔
آخری صفحے پر لکھا تھا:
کبھی کبھی کچھ لوگ صرف زندگی بدلنے آتے ہیں، ہمیشہ ساتھ رہنے نہیں۔
زین کا دل عجیب سا اداس ہو گیا۔
اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ چند لوگ بہت کم وقت میں انسان کی پوری دنیا بن جاتے ہیں۔
مہینے گزر گئے۔
زین اب بھی کبھی کبھی رات کو اُس بس اسٹیشن چلا جاتا تھا۔
ایک سرد رات وہ خاموشی سے وہاں بیٹھا تھا کہ اچانک کسی نے اُس کے سامنے آ کر کہا:
آج بھی راتوں سے دوستی ہے؟
زین نے چونک کر سر اٹھایا۔
سامنے ایما کھڑی تھی۔
وہی مسکراہٹ… وہی پرسکون آنکھیں۔
تم کہاں چلی گئی تھیں؟
زین نے بے چینی سے پوچھا۔
ایما ہلکا سا مسکرائی۔
کبھی کبھی انسان کو واپس آنے کے لیے تھوڑا دور جانا پڑتا ہے۔
زین بے اختیار ہنس پڑا۔
اُسے اُس لمحے احساس ہوا کہ کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں… بس تھوڑی دیر خاموش ہو جاتی ہیں۔
اور اُس رات، آدھی رات کے آخری مسافر کو آخرکار اپنی منزل مل گئی۔
