شہر میں جاڑے کی آمد ہمیشہ خاموشی ساتھ لاتی تھی۔ شام ڈھلتے ہی گلیوں پر ہلکی کہر اتر آتی اور دور دور تک جلتے بلب
دھندلے ستاروں جیسے لگنے لگتے۔ انہی دنوں عنایہ روز کی طرح اپنی کاپیوں کو سینے سے لگائے گھر لوٹ رہی تھی۔
عنایہ اُن لوگوں میں سے تھی جو محفل میں بھی خاموش رہتے ہیں۔ وہ ضرورت سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی۔ اُس کی دنیا چند معمولات تک محدود تھی۔ صبح یونیورسٹی، شام بچوں کو پڑھانا اور رات گئے تک ڈائری میں بے ترتیب لفظ لکھتے رہنا۔
وہ اپنی پھوپھی کے ساتھ ایک چھوٹے سے مکان میں رہتی تھی۔ گھر کے آنگن میں بیری کا ایک پرانا درخت تھا۔ خزاں کے دنوں میں اُس کے خشک پتے فرش پر بکھر جاتے اور ہوا چلتی تو لگتا جیسے کوئی آہستہ آہستہ چل رہا ہو۔
عنایہ کو وہ آواز پسند تھی۔
ایک دوپہر اُس نے دیکھا کہ سامنے والے بند مکان کا زنگ آلود دروازہ کئی برس بعد کھلا ہے۔ اندر سے سامان اٹھانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
محلے کے لوگ حیران تھے کیونکہ وہ گھر بہت عرصے سے خالی پڑا تھا۔
اگلی صبح عنایہ حسبِ معمول جلدی نکل رہی تھی کہ سامنے ایک اجنبی لڑکا پرانے گملے صاف کر رہا تھا۔ اُس کے کپڑوں پر مٹی لگی ہوئی تھی اور بال بکھرے ہوئے تھے۔
اُسی لمحے ایک گملا اُس کے ہاتھ سے پھسلا۔
عنایہ بے اختیار آگے بڑھی اور گملا گرنے سے پہلے پکڑ لیا۔
لڑکا چند لمحے اُسے دیکھتا رہا پھر مسکرا دیا۔
لگتا ہے اس محلے میں پہلی مہربانی مجھے آپ سے ملی ہے۔
عنایہ نے فوراً نظریں دوسری طرف کر لیں۔
میں نے صرف گملا پکڑا تھا۔
وہ ہلکا سا ہنسا۔
بعض لوگ چھوٹی باتوں کو بھی خوبصورت بنا دیتے ہیں۔
اُس دن کے بعد پہلی بار عنایہ نے محسوس کیا کہ کچھ آوازیں دیر تک ذہن میں رہ جاتی ہیں۔
اُس لڑکے کا نام فریحان تھا۔
وقت خاموشی سے گزرتا رہا۔
اب اکثر شام کو عنایہ جب آنگن میں بیٹھی ہوتی تو سامنے والے گھر کی چھت پر فریحان دکھائی دے جاتا۔ کبھی وہ پرانی کرسی پر بیٹھا کچھ لکھ رہا ہوتا، کبھی ریڈیو سن رہا ہوتا اور کبھی ہاتھ میں چائے کا کپ لیے آسمان کو دیکھتا رہتا۔
ایک رات بارش کے بعد بجلی چلی گئی۔ پورا محلہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔
عنایہ آنگن میں کھڑی بارش کی خوشبو محسوس کر رہی تھی کہ دیوار کے اُس پار سے آواز آئی۔
آپ بھی بارش کے بعد کی خاموشی سننے باہر آتی ہیں؟
عنایہ نے چونک کر اُدھر دیکھا۔
خاموشی سنی جا سکتی ہے؟
فریحان نے جواب دیا۔
بعض آوازیں کانوں سے نہیں، دل سے سنائی دیتی ہیں۔
عنایہ پہلی بار بے اختیار مسکرا دی۔
اس کے بعد دونوں کے درمیان مختصر باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کبھی کتابوں پر، کبھی پرانے گانوں پر اور کبھی اُن احساسات پر جنہیں لوگ عام طور پر لفظ نہیں دیتے۔
عنایہ کو حیرت ہوتی تھی کہ ایک انجان شخص اُس کی خاموشی کو کیسے سمجھ لیتا ہے۔
ایک شام فریحان نے اُسے ایک پرانا کاغذ دیا۔
اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا۔
کچھ لوگ شور کے بغیر بھی زندگی بدل دیتے ہیں۔
عنایہ کافی دیر اُس جملے کو دیکھتی رہی۔
پھر اُس نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید اُس کے اندر جمی ہوئی سردی آہستہ آہستہ پگھل رہی ہے۔
دن گزرتے گئے۔
اب شامیں پہلے جیسی سنسان نہیں لگتی تھیں۔
پھر اچانک فریحان کئی دنوں تک نظر نہیں آیا۔
نہ چھت پر، نہ دروازے کے پاس، نہ گلی میں۔
عنایہ نے خود کو بہت سمجھایا مگر ہر رات اُس کی نظریں بے اختیار سامنے والے گھر کی کھڑکیوں کی طرف اٹھ جاتیں۔
چھٹے دن رات گئے دروازے پر دستک ہوئی۔
عنایہ باہر آئی تو سامنے فریحان کھڑا تھا۔ آنکھوں کے نیچے ہلکی تھکن تھی مگر لہجہ ویسا ہی نرم تھا۔
مجھے اچانک ملتان جانا پڑ گیا تھا۔ امی کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔
عنایہ نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
اب وہ بہتر ہیں؟
فریحان نے سر ہلا دیا۔
کچھ دیر خاموشی رہی۔
پھر اُس نے آہستہ سے کہا۔
وہاں جا کر اندازہ ہوا کہ انسان بعض لوگوں کا عادی ہو جاتا ہے۔
عنایہ نے نظریں جھکا لیں۔
اور جب وہ سامنے نہ ہوں تو دن بہت لمبے لگتے ہیں۔
ہوا آہستہ سے بیری کے پتوں کو ہلا رہی تھی۔
عنایہ نے پہلی بار دل کی دھڑکن اتنی واضح محسوس کی۔
کچھ مہینوں بعد فریحان کو دوسرے شہر میں ملازمت مل گئی۔
عنایہ نے اُس دن پہلی بار محسوس کیا کہ جدائی کا خیال بھی انسان کو خاموش کر دیتا ہے۔
جاتے وقت فریحان نے صرف اتنا کہا۔
اگر فاصلے سچے رشتے بدل دیتے تو لوگ یادیں کبھی سنبھال کر نہ رکھتے۔
فریحان چلا گیا۔
وقت گزرتا رہا۔ باتیں کم ہوتی گئیں۔ دن معمول جیسے تھے مگر اُن میں پہلے والا رنگ نہیں رہا تھا۔
پھر ایک سال بعد جاڑے کی ایک دھند بھری شام دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
عنایہ نے دروازہ کھولا تو اُس کی سانس جیسے چند لمحوں کے لیے رُک گئی۔
سامنے فریحان کھڑا تھا۔
ہاتھ میں سفید پھولوں کا ایک چھوٹا سا گلدستہ تھا۔
وہ آہستہ سے مسکرایا۔
میں نے سوچا بعض راستے ادھورے اچھے نہیں لگتے۔
عنایہ کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
فریحان نے دھیمی آواز میں کہا۔
اگر تم چاہو تو میں اپنی باقی ساری شامیں اسی آنگن کے قریب گزار سکتا ہوں۔
ہوا میں سردی گھلی ہوئی تھی۔ بیری کے خشک پتے زمین پر بکھرے پڑے تھے۔
اور پہلی بار عنایہ کو لگا کہ کچھ لوگ واقعی دیر سے نہیں، صحیح وقت پر واپس آتے ہیں۔
