ریل گاڑی رات کے اندھیرے کو چیرتی ہوئی آہستہ آہستہ سفر کر رہی تھی۔ کھڑکی کے باہر دور تک صرف دھند، بجلی کے کھمبے اور کبھی کبھار کسی چھوٹے اسٹیشن کی مدھم روشنی دکھائی دیتی تھی۔
مریم نے سر سیٹ سے ٹکا رکھا تھا۔ وہ مسلسل تین دن سے جاگ رہی تھی اور اب اُس کی آنکھوں میں تھکن صاف نظر آ رہی تھی۔
وہ لاہور سے کراچی جا رہی تھی۔
ہمیشہ کے لیے۔
کم از کم اُس نے خود سے یہی کہا تھا۔
مریم کو سفر پسند نہیں تھے۔ اُسے اسٹیشنوں کی بھیڑ، لوگوں کی آوازیں اور الوداع کہتے چہرے بے حد اداس کرتے تھے۔ مگر اس بار اُس کے پاس جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔
اُس نے بیگ سے پانی کی بوتل نکالنے کی کوشش کی مگر بوتل سیٹ کے نیچے لڑھک گئی۔
سامنے بیٹھے لڑکے نے فوراً بوتل اٹھا کر اُس کی طرف بڑھا دی۔
شاید یہ بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی۔
مریم بے اختیار ہلکا سا مسکرا دی۔
شکریہ۔
لڑکے نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔
ویسے رات کے سفر میں چیزیں اکثر گم ہو جاتی ہیں۔
مریم نے پہلی بار غور سے اُسے دیکھا۔ سادہ کپڑے، تھکی ہوئی آنکھیں اور ہاتھ میں ایک پرانی ڈائری۔
کافی دیر خاموشی رہی۔
پھر لڑکے نے پوچھا۔
آپ بھی پہلی بار اتنا لمبا سفر کر رہی ہیں؟
مریم نے مختصر جواب دیا۔
ہاں۔
ڈر لگ رہا ہے؟
تھوڑا۔
لڑکا ہلکا سا مسکرایا۔
مجھے بھی ہر نئے شہر سے ڈر لگتا ہے۔
اُس کا نام دانیال تھا۔
رات آہستہ آہستہ گزرتی رہی۔ کبھی چائے والا آتا، کبھی ٹرین کسی سنسان اسٹیشن پر چند لمحوں کے لیے رُکتی اور پھر دوبارہ چل پڑتی۔
باتوں باتوں میں مریم کو پتا چلا کہ دانیال کئی برسوں بعد اپنے شہر واپس جا رہا ہے۔ اُس نے بڑے سکون سے بتایا کہ بعض اوقات انسان بہت دور جا کر بھی وہیں واپس آ جاتا ہے جہاں سے بھاگا تھا۔
مریم نے پوچھا۔
اگر واپس جا کر بھی کچھ نہ بدلے تو؟
دانیال نے چند لمحے سوچا۔
پھر کم از کم انسان کو یہ افسوس نہیں رہتا کہ اُس نے کوشش نہیں کی۔
یہ جملہ مریم کے دل میں کہیں اتر گیا۔
رات کے دو بج رہے تھے۔ باقی مسافر سو چکے تھے۔ ڈبے کی مدھم روشنی میں ہر چیز خاموش لگ رہی تھی۔
دانیال نے اپنی ڈائری بند کرتے ہوئے پوچھا۔
آپ ہمیشہ اتنا کم بولتی ہیں؟
مریم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
ہر انسان کے اندر کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو وہ صرف خود سے کرتا ہے۔
دانیال نے پہلی بار پوری توجہ سے اُس کی طرف دیکھا۔
شاید اسی لیے خاموش لوگ زیادہ سچے لگتے ہیں۔
مریم نے فوراً نظریں کھڑکی کی طرف موڑ لیں۔
اُسے محسوس ہوا جیسے اُس کے اندر جمی ہوئی کوئی برف آہستہ آہستہ پگھل رہی ہو۔
صبح ہونے کے قریب ٹرین ایک چھوٹے اسٹیشن پر رُکی۔
دانیال باہر سے دو کپ چائے لے آیا۔
یہ رات والی چائے ہمیشہ یاد رہتی ہے۔
مریم نے کپ ہاتھ میں لیا۔ ٹھنڈی ہوا کھڑکی سے اندر آ رہی تھی اور دور آسمان ہلکا نیلا ہونا شروع ہو گیا تھا۔
کچھ لمحوں بعد دانیال نے دھیمی آواز میں کہا۔
عجیب بات ہے نا… کچھ لوگ برسوں ساتھ رہ کر بھی اپنے نہیں لگتے، اور کچھ چند گھنٹوں میں اجنبی نہیں رہتے۔
مریم خاموش رہی مگر اُس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
کراچی آنے میں اب صرف ایک گھنٹہ باقی تھا۔
پہلی بار مریم کو لگا کہ شاید وہ اس سفر کے ختم ہونے سے ڈر رہی ہے۔
ٹرین آہستہ آہستہ آخری اسٹیشن کی طرف بڑھ رہی تھی۔
لوگ اپنا سامان سمیٹنے لگے تھے۔
دانیال نے اپنی ڈائری بیگ میں رکھتے ہوئے کہا۔
شاید دوبارہ کبھی ملاقات نہ ہو۔
مریم کے دل میں اچانک عجیب سی اداسی اتر آئی۔
پھر دانیال نے جیب سے ایک چھوٹا سا کاغذ نکالا اور اُس کی طرف بڑھا دیا۔
اگر کبھی لگے کہ کسی اجنبی سے بات کرنی چاہیے… تو کال کر لیجیے گا۔
ٹرین رُک گئی۔
لوگ جلدی جلدی اُترنے لگے۔
مریم چند لمحے وہیں بیٹھی رہی۔
پھر اُس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
دانیال بھیڑ میں آہستہ آہستہ دور جا رہا تھا۔
اور پہلی بار مریم کو محسوس ہوا کہ بعض سفر منزل سے زیادہ اُن لوگوں کی وجہ سے یاد رہ جاتے ہیں جو راستے میں ملتے
